21 اگست 2026 - 22:22
ٹرمپ کا جارحانہ لہجہ؛ واشنگٹن پوسٹ نے ڈیکوڈ کر لیا: ہرمز میں امریکی شکست

روزنامہ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ ٹرمپ کا گذشتہ ہفتے امریکی اتحادیوں کے خلاف جارحانہ لہجہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں اس کی ناکامی کی علامت ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ واشنگٹن پوسٹ نے ایک تجزیاتی مضمون میں لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی صدرِ، جو تہران کو پسپائی پر مجبور کرنے کی اپنی کوششوں میں ناکام رہا ہے، بظاہر اپنا زیادہ سے زیادہ غصہ اور مایوسی عمان اور امریکہ کے دیگر علاقائی شراکت داروں پر نکال رہا ہے۔

اس روزنامے نے لکھا ہے کہ جنوبی کوریا اور عمان کو ٹرمپ کی دھمکیاں، ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے غصے کی علامت ہیں؛ کیونکہ وہ اس کو اس جنگ سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا جس کو خود اسی نے شروع کیا تھا۔

تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ٹرمپ ایران اور خلیج فارس کے دیگر ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لئے ممکنہ ضمنی معاہدے سے بھی پریشان نظر آ رہا ہے۔

سابق امریکی سفارت کار ایلن آئر (Alan Eyre) ـ جو سنہ 2015ع‍ کے ایٹمی معاہدے تک پہنچنے کے لئے امریکی مذاکراتی ٹیم کا رکن تھا ـ نے کہا: "صدر کے اس ہفتے کے بیانات، آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو معمول کی سطح پر بحال کرنے کے 'اپنے کم از کم ہدف کے حصول میں ناکامی پر ـ اس کی مایوسی کو نمایاں کر رہے ہیں۔"

اس رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کا بڑھتا ہؤا غصہ خلیج فارس میں امریکی اتحادیوں کو مشکل صورتِ حال میں ڈال رہا ہے، جو طویل عرصے سے جنگ میں داخل ہونے سے گریز کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ایرانی فوجی حملوں کا بڑا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

ڈینیل بینائم (Daniel Benaim) ـ جس نے ـ جس نے بائیڈن انتظامیہ میں جزیرہ نما عرب کے امور میں اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ کے نائب کے طور پر خدمات انجام دیں، ـ نے کہا کہ وہ اس کو توقع ہے کہ سعودی عرب، قطر یا متحدہ عرب امارات جیسے ممالک "توازن پیدا کرنے" کی پالیسی جاری رکھیں گے؛ یعنی امریکہ سے قریبی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے، ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات بھی پرکھیں گے۔

بنائم نے کہا: "اب ٹرمپ اپنے لئے آپشنز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ کسی بھی صورتِ حال میں حیرت اور الجھن سے دوچار ہو کر نہ رہ جائے۔"

بنائم نے مزید کہا کہ خلیج فارس کے ممالک ایران کے ساتھ سفارتی حل تلاش کر رہے ہیں؛ بالکل اسی طرح، جس طرح کہ عمان ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے؛ اور جس میں آبی گذرگاہ سے گذرنے والی جہازوں سے محصول وصول کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی، وہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لئے بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہے ہیں [جوکہ آگاہ مبصرین کے خیال میں خیالی پلاؤ سے زیادہ کچھ نہیں ہے]۔

بنائم نے کہا کہ اگر بالآخر خلیج فارس کے کچھ ممالک عمان کے اس معاہدے کی حمایت کریں جس میں ایران کے ساتھ آبنائے کا مشترکہ انتظام اور مال بردار جہازوں سے محصول وصولی شامل ہو، تو اس کو حیرت نہیں ہوگی۔

اس نے تسلیم کیا کہ ایسا معاہدہ مثالی نہیں ہے، اور کہا: "خلیج فارس کی عرب ریاستیں مناسب ظاہری صورت کے ساتھ، وہ اس کی حمایت کریں گے؛ کیونکہ ان کے لئے معاشی شریانوں کا کھلا رہنا زیادہ اہم ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha